Loading…

عارف حبیب لمیٹڈ: مالی سال 2027 میں معاشی نمو 3.84% اور شرح سود 11% تک رہنے کی پیشگوئی Pakistan’s Economic Outlook – A Cautious Reacceleration

AHL Research
Stock ImpactPositive

پاکستان اکانومی آؤٹ لک: محتاط معاشی بحالی (FY27)

تحقیقاتی ادارہ: عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) | تاریخ: 29 اگست 2026

رپورٹ کا خلاصہ

عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت مالی سال 2027 (FY27) میں استحکام کے بعد دوبارہ نمو کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اقتصادی اصلاحات، بیرونی کھاتوں کے استحکام اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے باعث جی ڈی پی نمو 3.84% تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2028 میں یہ مزید بڑھ کر 4.30% ہو سکتی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی معاشی رفتار کے لیے اہم خطرات ہیں۔

کلیدی معاشی اشاریے (AHL تخمینے)

اشاریہ (Indicator)FY26FY27EFY28F
حقیقی جی ڈی پی نمو (Real GDP Growth)3.70%3.84%4.30%
اوسط افراط زر (CPI Inflation)7.05%8.22%5.63%
SBP پالیسی ریٹ (سال کا اختتام)11.50%11.00%8.00%
روپیہ بمقابلہ ڈالر (PKR/USD End)278.16280.95283.76
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (% of GDP)-0.07%-0.78%-0.82%
مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit % of GDP)2.60%3.90%3.70%

اہم شعبہ جات کا جائزہ

  • زراعت (Agriculture): FY27E میں 3.3% نمو کی توقع ہے جو سیلاب کے بعد کی بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔ لائیو اسٹاک میں 3.8% اور فصلوں میں 2.6% بہتری کا امکان ہے۔
  • صنعت (Industry): صنعتی شعبہ 5.0% نمو کے ساتھ اہم کردار ادا کرے گا۔ بڑی صنعتوں (LSM) کی نمو 5.7% رہنے کا تخمینہ ہے جس کی وجہ سود کی شرح میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہے۔
  • خدمات (Services): خدمات کا شعبہ 3.7% کی رفتار سے بڑھے گا۔ خاص طور پر آئی ٹی برآمدات FY27E میں USD 4.8-4.9bn کے نئے ریکارڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

افراط زر، مانیٹری پالیسی اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ

  • مہنگائی (Inflation): خوراک اور ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے FY27E میں اوسط CPI بڑھ کر 8.22% ہو سکتی ہے، لیکن مالی سال 2028 میں یہ دوبارہ گھٹ کر 5.63% پر آ جائے گی۔
  • پالیسی ریٹ (Policy Rate): اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) فی الحال پالیسی ریٹ 11.5% پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ FY27 کے آخر میں 50bps کٹوتی کے ساتھ یہ 11.0% اور FY28 میں 8.0% تک آنے کی پیشگوئی ہے۔
  • روپیہ اور ذخائر: روپے کی قدر میں زبردست استحکام رہا ہے۔ FY27E کے اختتام پر ڈالر 280.95 روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ SBP کے زرمبادلہ کے ذخائر جون 2027 تک USD 20.5bn تک پہنچنے کی توقع ہے۔
  • ترسیلات زر (Remittances): بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر FY27E میں USD 43.8bn تک پہنچنے کی امید ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنے میں مدد دے گی۔

پوزیٹو محرکات اور خطرناک عوامل (Risks & Catalysts)

مثبت عوامل (Upside Risks):

  • مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی۔
  • کریڈٹ ریٹنگز (S&P, Moody's, Fitch) میں مسلسل بہتری سے عالمی مارکیٹ سے سستا فنڈ حاصل ہونا۔
  • ستمبر 2026 میں آئی ایم ایف (IMF) جائزہ کی کامیابی کے ساتھ تکمیل۔

منفی خطرات (Downside Risks):

  • عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ جو درامداتی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا سکتا ہے۔
  • ایف بی آر (FBR) کے ٹیکس ہدف میں ناکامی کے باعث مالیاتی دباؤ۔

سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکات

پاکستان کی معیشت بنیادی استحکام حاصل کر چکی ہے اور اب نمو کی سمت گامزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بہتری اور کریڈٹ ریٹنگ میں اپ گریڈیشن سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث ہے۔ تاہم، اسٹاک مارکیٹ (PSX) میں سرمایہ کاری کے دوران عالمی خام تیل کی قیمتوں اور آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد پر نظر رکھنا ضروری ہے۔