کراچی کے ڈیری کسانوں نے دودھ کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ نے نئے نرخ منظور نہیں کیے تو وہ خود سے ریٹ 300 روپے فی لیٹر مقرر کر دیں گے۔
ڈیری فارمرز کے ترجمان شبیر ڈار نے بتایا کہ موجودہ قیمتوں پر کاروبار چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے کمشنر کراچی پر الزام عائد کیا کہ بار بار اپیلوں اور ملاقاتوں کے باوجود انتظامیہ نے جان بوجھ کر اس معاملے میں تاخیر کی۔ پیٹرول، ڈیزل، بجلی، پانی اور مزدوری کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے خوراک (کیٹل فیڈ) کی قیمت بھی 800 روپے سے بڑھ کر 1,700 روپے ہو چکی ہے۔
| لاگت کا عنصر | تفصیل / سابقہ اور موجودہ قیمت |
|---|---|
| کیٹل فیڈ (Cattle Feed) | 800 روپے سے بڑھ کر 1,700 روپے |
| مطلوبہ اضافہ | 60 روپے فی لیٹر |
| ممکنہ خوردہ قیمت | 300 روپے فی لیٹر |
مکی سرمایہ کاروں کے لیے نکتہ: خوراک اور افراط زر کے دباؤ کی وجہ سے خوراک اور ڈیری سیکسز میں لاگت کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم اس خبر کا براہ راست تعلق کسی مخصوص پی ایس ایکس (PSX) درج کمپنی سے نہیں ہے۔
Dairy farmers in Karachi have demanded a Rs. 60 per liter increase in milk prices, warning that retail rates could jump to Rs. 300 per liter if authorities fail to issue an official notification.
According to Shabbir Dar, spokesperson for the dairy farmers, operations have become unsustainable due to soaring inflation. The cost of cattle feed has surged from Rs. 800 to Rs. 1,700, alongside sharp hikes in electricity, labor, water, and fuel expenses. Farmers criticized the Karachi administration for delaying formal consultations.
| Cost Parameter | Details / Price Shift |
|---|---|
| Cattle Feed | Increased from Rs. 800 to Rs. 1,700 |
| Demanded Hike | Rs. 60 per liter |
| Threatened Retail Price | Rs. 300 per liter |
Investor Takeaway: Rising operational and feed costs continue to intensify margin pressures across Pakistan's agricultural and dairy supply chains, though no specific listed PSX entity is directly named in this development.
Read the full story on the original publisher’s website.
Open original article